Monday, May 20, 2013

لکھ دیں اک بات پرانی سی

لکھ دیں اک بات پرانی سی
جو تری میری تھی کہانی سی
محبت کہا کرتے تھے اسے
جو کفیت تھی اک ہیجانی سی
کھو گئی ہے گردشِ دوراں میں
اک جوڑی تھی جو آسمانی سی
مل جایئں کسی روز،کسی موڑ پر
خواہیش اٹھتی ہے دل میں انجانی سی
کتنا انمول تھازادہ راہ ساتھ  تیرا
اب تو قافلہ میں ہے ویرانی سی

12 comments:

  1. تیری اپنی ہے یا کاپی پیسٹ؟
    دو دو مہینے تک جواب نی دیتا تو کمنٹوں کے، خیریت؟ ڈاکٹر نے پرہیز تو نی بتایا وا؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. استاد اپنی لکھی ہوئی ہے-
      یار جواب میں کچھ دیر سویر ہو جاتی ہے لیکن آئندہ فورا جوابنے کی کوشش کروں گا

      Delete
    2. فورا کی ضرورت نہیں ہے میں نے تو اگلی پوسٹ پہ ہی دیکھنا ہوتا ہے :ڈ

      Delete
    3. اب جانے بھی دے یار :ڈ:ڈ: میرا خیال ہے میں اگلی پوسٹ جلدی لکھ لیا کروں

      Delete
  2. کھو گئی ہے گردشِ دوراں میں
    اک جوڑی تھی جو آسمانی سی
    جوڑی کس کی تھی کبوتروں کی یا جرابوں کی؟

    ReplyDelete
    Replies
    1. علی یہ کھڑکیوں کی جوڑی تھی :)

      Delete
  3. کچھ یادیں پرانی سی، کچھ باتیں پرانی سی
    یاد دلادی گزری ایک کہانی پرانی سی

    ReplyDelete
    Replies
    1. واہ نعیم بھائی اچھا لگا :)

      Delete
  4. زبردست۔۔۔ بہت عمدہ نظم۔۔۔

    ReplyDelete
  5. مل جایئں کسی روز،کسی موڑ پر
    خواہیش اٹھتی ہے دل میں انجانی سی

    ReplyDelete